Friday, 2 July 2021

میں اکیلے میں کھینچ لایا ہوں

 میں اکیلے میں کھینچ لایا ہوں

خواب کوچے میں کھینچ لایا ہوں

ایسا پگلا ہوں دل کی خواہش پہ

چاند کمرے میں کھینچ لایا ہوں

تیری یادوں کو باندھ کر تسبیح

دل کے حجرے میں کھینچ لایا ہوں

آؤ اب مل کے اس کو دفنائیں

ہجر بیلے میں کھینچ لایا ہوں

دوستو تم سے مل کے جیسے میں

خود کو کچرے میں کھینچ لایا ہوں

شاعری میں نے کی نہیں عرضی

درد مصرعے میں کھینچ لایا ہوں


عرباض عرضی

No comments:

Post a Comment