میں اکیلے میں کھینچ لایا ہوں
خواب کوچے میں کھینچ لایا ہوں
ایسا پگلا ہوں دل کی خواہش پہ
چاند کمرے میں کھینچ لایا ہوں
تیری یادوں کو باندھ کر تسبیح
دل کے حجرے میں کھینچ لایا ہوں
آؤ اب مل کے اس کو دفنائیں
ہجر بیلے میں کھینچ لایا ہوں
دوستو تم سے مل کے جیسے میں
خود کو کچرے میں کھینچ لایا ہوں
شاعری میں نے کی نہیں عرضی
درد مصرعے میں کھینچ لایا ہوں
عرباض عرضی
No comments:
Post a Comment