Friday, 2 July 2021

ترے حضور اگر مجھ میں عاجزی نہ رہے

 تِرے حضور اگر مجھ میں عاجزی نہ رہے

میں رو پڑوں مِرے ہونٹوں پہ یہ ہنسی نہ رہے 

خوشی کی رُت میں کوئی ہنسنے والا مل نہ سکا 

ہماری موت کے موقعے پہ ماتمی نہ رہے 

مِرے خیال میں محشر کی اک علامت ہے 

قلم کا قحط پڑے گھر میں ڈائری نہ رہے 

کچھ ایسے رنگ سے ترتیب دے زمانے کو 

خوشی رواج ہو اخلاص کی کمی نہ رہے 

وبا کا خوف ہے ایسا کہ خانۂ رب میں 

پرندے دیکھے گئے، اور آدمی نہ رہے 

تمہارا مجھ سے بچھڑنا بھی ایسے ہے عبدل

کہ جیسے قحط کے موسم میں نوکری نہ رہے 


عبدالرب

No comments:

Post a Comment