Thursday, 10 December 2020

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا

زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی

اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا

چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر

جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا

میں اس دن تیری آمد کا نظارہ سوچتی تھی

وہ دن جب تیرے جانے کے لیے رکنا پڑا تھا

اسی حسنِ تعلق پر ورق لکھتے گئے لاکھ

کِرن سے رُوئے گُل تک ایک پل کا رابطہ تھا

بہت دن بعد زہرا تُو نے کچھ غزلیں تو لکھیں

نہ لکھنے کا کسی سے کیا کوئی وعدہ کیا تھا


زہرا نگاہ

زہرہ نگاہ

No comments:

Post a Comment