Wednesday, 7 October 2020

اب تو کچھ ایسا لگتا ہے

اب تو کچھ ایسا لگتا ہے

سارا جگ مجھ سے چھوٹا ہے 

آنکھیں بھی مری بوجھل بوجھل 

شانوں پر بھی کچھ رکھا ہے 

کاتبِ وقت نے جاتے جاتے 

چہرے پر کچھ لکھ سا دیا ہے 

آئینے میں چہرہ کھولے 

دیکھ رہی ہوں کیا لکھا ہے 

لکھا ہے ترے روپ کا ہالہ

اور کسی کے گرد سجا ہے

لکھا ہے زلفوں کا دوشالہ

اور کسی نے اوڑھ لیا ہے

لکھا ہے چہرے کی دھنک کا

کوئی رنگ نہیں رہتا ہے

پڑھ کر مصحف رخ کی عبارت

دل کو اطمینان ہوا ہے

روح تلک سرشار ہے میری

آئینہ حیران ہوا ہے

اس کو شاید علم نہیں ہے 

میرا دامن اب بھی بھرا ہے

جو رکھنا تھا رکھے ہوئے ہوں 

جو دینا تھا بانٹ دیا ہے


زہرا نگاہ

No comments:

Post a Comment