شام اور محبت
میں نے دیکھا
شام ہونٹوں پہ انگلی رکھے
خاموش کھڑی تھی
محبت درد کی انگلی تھامے، اس کی جانب بڑھی
اچانک رات، سیاہ لبادہ اوڑھے
ماتمی گیت گاتی
ان کے بیچ آن کھڑی ہوئی
ہوا گٹھی گٹھی سسکیوں کی صورت چلنے لگی
اس کے بعد کیا ہوا
شام اور محبت دونوں
رات کی قبر میں دفن ہوئیں
یا سرمئی خوابوں کی
دھندلی وادی میں کھو گئیں؟
مجھے کیا معلوم؟
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment