Wednesday, 7 October 2020

جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

 جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے

زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے

میں ہاتھ کی لکیریں مٹانے پہ ہوں بضد

گو جانتا ہوں نقش نہیں یہ سلیٹ کے

دنیا کو کچھ خبر نہیں کیا حادثہ ہوا

پھینکا تھا اس نے سنگ گلوں میں لپیٹ کے

فوّارے کی طرح نہ اگل دے ہر ایک بات

کم کم وہ بولتے ہیں جو گہرے ہیں پیٹ کے

اک نقرئی کھنک کے سوا کیا ملا شکیب

ٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے


شکیب جلالی

No comments:

Post a Comment