میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں
صدا تو دے کہ جانوں میں کہاں ہوں
یہی ہے فرق مجھ میں اور اس میں
یقیں ہے وہ تو میں بس اک گماں ہوں
زمیں سے آسماں تک شور کیسا
تو کیا سب کے لیے بار گراں ہوں
بہم اس کو فضائے آسمانی
میں گویا بند کمرے میں دھواں ہوں
میں پھوٹی اس کی پسلی سے تو ٹیڑھی
وہ سیدھا تیر جیسا میں کماں ہوں
خیال و خواب ہے وہ آب دریا
تِرے صحراؤں میں ریگ رواں ہوں
کبھی الزام لگتا ہے یہ ہونا
نہ ہو کر بھی تو میں تہمت بجاں ہوں
دلیلیں ڈھیر ساری تو زمیں ہے
بہ ضد اس پر کہ تیرا آسماں ہوں
یہ دنیا دار بچے جانتے ہیں
مِرے قدموں میں جنت ہے کہ ماں ہوں
رخسانہ جبین
No comments:
Post a Comment