Wednesday, 9 March 2022

میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں

 میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں

صدا تو دے کہ جانوں میں کہاں ہوں

یہی ہے فرق مجھ میں اور اس میں

یقیں ہے وہ تو میں بس اک گماں ہوں

زمیں سے آسماں تک شور کیسا

تو کیا سب کے لیے بار گراں ہوں

بہم اس کو فضائے آسمانی

میں گویا بند کمرے میں دھواں ہوں

میں پھوٹی اس کی پسلی سے تو ٹیڑھی

وہ سیدھا تیر جیسا میں کماں ہوں

خیال و خواب ہے وہ آب دریا

تِرے صحراؤں میں ریگ رواں ہوں

کبھی الزام لگتا ہے یہ ہونا

نہ ہو کر بھی تو میں تہمت بجاں ہوں

دلیلیں ڈھیر ساری تو زمیں ہے

بہ ضد اس پر کہ تیرا آسماں ہوں

یہ دنیا دار بچے جانتے ہیں

مِرے قدموں میں جنت ہے کہ ماں ہوں


رخسانہ جبین 

No comments:

Post a Comment