کہنے سے پہلے اپنی ہر اک بات تولنا
پھر جا کے حرفِ شیریں میں فاروق بولنا
دھندلا دیا ہے وقت نے چہرہ کچھ اس طرح
لازم ہے آئینے کو بھی اس بار ڈولنا
لوگو! تم اپنے درد سمیٹو ہر ایک پل
کیا دوسروں کی زندگی میں زہر گھولنا
الجھے ہوئے ہیں سوچ کے دھاگے کچھ اس طرح
ایسی گرہیں پڑی ہیں کہ مشکل ہے کھولنا
فاروق گھر سے نکلے ہو تو دھیان میں رہے
چہروں کو پڑھتے رہنا تو دل بھی ٹٹولنا
زبیر فاروق
No comments:
Post a Comment