اشک اظہار کی علامت ہے
رنج کردار کی علامت ہے
کیا کہا؛ عشق ہو گیا تجھ کو
عشق تو دار کی علامت ہے
کھول کر آنکھ دیکھ دنیا کو
خواب بے کار کی علامت ہے
دل عجب گھر ہے دوستو جس میں
در بھی دیوار کی علامت ہے
ایک تِل، مثلِ مہرِ دربانی
اس کے رخسار کی علامت ہے
خون ہی خون بر سرِ منزل
راہِ پُر خار کی علامت ہے
زندگی بھی کمال ہے صاحب
ایک ہی بار کی علامت ہے
اسد کمال
No comments:
Post a Comment