Sunday, 21 November 2021

بوجھ ایسا ہے کہ شانوں کو جھکا بیٹھے ہیں

 بوجھ ایسا ہے کہ شانوں کو جھکا بیٹھے ہیں

مجتمع کر کے تِرے در پہ انا بیٹھے ہیں

ہم نے اک درجۂ حیرت میں تجھے پایا تھا

اور اک درجۂ حیرت میں گنوا بیٹھے ہیں

حاضری قیس قبیلے کی سرِ دشت ہوئی

ہم نے بھی ہاتھ اٹھا کر کے کہا؛ بیٹھے ہیں

دو گھڑی رک کے ہمیں پیار سے تک لے صاحب

ہم پرندے تیری دیوار پہ آ بیٹھے ہیں

دل تو قائل ہے فقط ایک خدا کا لیکن

رستۂ زیست پہ جو اتنے خدا بیٹھے ہیں


عقیل اختر

No comments:

Post a Comment