Tuesday, 20 December 2016

مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے

مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے
جو چاہا جائے وہ ہوتا نہیں ہے
کہوں غمگساروں سے کہوں کیا
کئی دن سے تمہیں دیکھا نہیں ہے
پشیماں ہوں تیری محفل سے اٹھ کر
کسی نے بھی مجھے روکا نہیں ہے
بہت بے تاب ہیں آنکھوں میں آنسو
کوئی اپنا،۔۔۔ نظر آتا نہیں ہے
جدھر دیکھو مِری رسوائیاں ہیں
تعجب ہے، تِرا چرچا نہیں ہے
نگاہیں دوستوں کی جھک گئی ہیں
مجھے غیروں نے ٹھکرایا نہیں ہے
محبت میں ہے کچھ کچھ عقل شامل
یہ دل ہی دل کا سرمایہ نہیں ہے
تم آخر کیوں پریشاں ہو رہے ہو
ایاؔز اپنوں سے بے گانہ نہیں ہے

ایاز جھانسوی

No comments:

Post a Comment