مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں ہے
جو چاہا جائے وہ ہوتا نہیں ہے
کہوں غمگساروں سے کہوں کیا
کئی دن سے تمہیں دیکھا نہیں ہے
پشیماں ہوں تیری محفل سے اٹھ کر
بہت بے تاب ہیں آنکھوں میں آنسو
کوئی اپنا،۔۔۔ نظر آتا نہیں ہے
جدھر دیکھو مِری رسوائیاں ہیں
تعجب ہے، تِرا چرچا نہیں ہے
نگاہیں دوستوں کی جھک گئی ہیں
مجھے غیروں نے ٹھکرایا نہیں ہے
محبت میں ہے کچھ کچھ عقل شامل
یہ دل ہی دل کا سرمایہ نہیں ہے
تم آخر کیوں پریشاں ہو رہے ہو
ایاؔز اپنوں سے بے گانہ نہیں ہے
ایاز جھانسوی
No comments:
Post a Comment