یہ کب کہا ہے کہ مرنے کی بات یار نہ کر
مگر یہ تذکرۂ ہجر بار بار نہ کر
وہ اک کرم سے سبھی کچھ تجھے بھلا دے گا
تو اس لیے ستم اس کے ابھی شمار نہ کر
نظر کو روک کسی آرزو کے ساحل پر
کوئی امید نہ رکھ اب کسی کے آنے کی
جو وقت بیت گیا،۔ اس کا انتظار نہ کر
سکوں بہت ہے یہاں دوریوں کے صحرا میں
قریب آ کے ہمیں پھر سے بے قرار نہ کر
سمجھ لے اس کو بھی حکمت کوئی خدا کی حسنؔ
وہ جا چکا ہے تو یوں خود کو سوگوار نہ کر
علی حسن شیرازی
No comments:
Post a Comment