Tuesday, 20 December 2016

یہ کب کہا ہے کہ مرنے کی بات یار نہ کر

یہ کب کہا ہے کہ مرنے کی بات یار نہ کر
مگر یہ تذکرۂ ہجر بار بار نہ کر
وہ اک کرم سے سبھی کچھ تجھے بھلا دے گا
تو اس لیے ستم اس کے ابھی شمار نہ کر
نظر کو روک کسی آرزو کے ساحل پر
اب اس کے حسن کے دریا کو ایسے پار نہ کر
کوئی امید نہ رکھ اب کسی کے آنے کی
جو وقت بیت گیا،۔ اس کا انتظار نہ کر
سکوں بہت ہے یہاں دوریوں کے صحرا میں
قریب آ کے ہمیں پھر سے بے قرار نہ کر
سمجھ لے اس کو بھی حکمت کوئی خدا کی حسنؔ
وہ جا چکا ہے تو یوں خود کو سوگوار نہ کر 

علی حسن شیرازی

No comments:

Post a Comment