Tuesday, 20 December 2016

خود سے انجان ہو گئے ہیں ہم

خود سے انجان ہو گئے ہیں ہم
تیری پہچان ہو گئے ہیں ہم
مان کر آپ کو خدا اپنا
اہلِ ایمان ہو گئے ہیں ہم
اس نے ماتھے پہ ہونٹ رکھے ہیں
اور، بے جان ہو گئے ہیں ہم
دھڑکنیں گونجتی ہیں سینے میں
اتنے سنسان ہو گئے ہیں ہم
ہو کوئی کیوں کٹھن سا لگتا ہے
جب سے آسان ہو گئے ہیں ہم
ایک محفل کو یاد کر کے حسنؔ
بڑے ویران ہو گئے ہیں ہم 

علی حسن شیرازی

No comments:

Post a Comment