خود سے انجان ہو گئے ہیں ہم
تیری پہچان ہو گئے ہیں ہم
مان کر آپ کو خدا اپنا
اہلِ ایمان ہو گئے ہیں ہم
اس نے ماتھے پہ ہونٹ رکھے ہیں
دھڑکنیں گونجتی ہیں سینے میں
اتنے سنسان ہو گئے ہیں ہم
ہو کوئی کیوں کٹھن سا لگتا ہے
جب سے آسان ہو گئے ہیں ہم
ایک محفل کو یاد کر کے حسنؔ
بڑے ویران ہو گئے ہیں ہم
علی حسن شیرازی
No comments:
Post a Comment