بے حد و شمار ہو جا
تُو مِرا انتظار ہو جا
اس میں پھیلے ہیں راز ہستی کے
سایۂ زلفِ یار ہو جا
جس کرن سے وجود روشن ہے
کوئی تم کو نہ توڑ پائے گا
عشق کا اعتبار ہو جا
چاہتے ہو اگر امر ہونا
ساعتِ وصلِ یار ہو جا
تم کو خوشیوں کی ہے تلاش حسنؔ
یوں کرو، سوگوار ہو جا
علی حسن شیرازی
No comments:
Post a Comment