ایسے گزرے ہیں ماہ و سال بہت
زندگی میں رہا ملال بہت
ہم نہ رکھ پائے کچھ خیال اپنا
ساتھ اپنے تھے ہم خیال بہت
یہ زمانہ کبھی نہیں سدھرا
اپنے دل سے کبھی نہ جیت سکے
ورنہ دکھلاۓ ہیں کمال بہت
آگ پانی میں اور ہواؤں میں
ہے خدا کا میاں جلال بہت
ہجر کے دکھ نے کر دیا روشن
ورنہ بے نور تھا وصال بہت
ہم یہ کہہ کر اسے چلے آئے
تجھ سے وابستہ ہیں سوال بہت
اس لیے سرخ رو ہے یہ دنیا
اس پہ آتے رہے زوال بہت
اشکؔ یہ کم نہیں کہ دنیا میں
ہم سخن سے ہیں مالا مال بہت
ابراہیم اشک
No comments:
Post a Comment