Wednesday, 7 July 2021

دائرہ زدہ لوگو دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں

 دائرہ زدہ لوگو

دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں

سر نگوں مسافت میں راستے تو ہوتے ہیں

خستگی بھی ہوتی ہے

طے ہوئے تماشے کا اک خیالِ پیہم بھی

پر ہٹاؤ جوں کا توں اور کٹاؤ جوں کا توں

ورزشی مشینوں پر دوڑتے ہوئے لوگو

تھک کے بیٹھ جاؤ گے

اور پھر نیا کوئی بے جہت مسافر

اس دائرے میں گھومے گا

کاش کوئے منزل کو دوڑ کافی ہو سکتی

کاش سوئے دانائی کوئی آئینہ خانہ

خستگی سمجھ سکتا

دائرہ زدہ لوگو

دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں


عاطف توقیر

No comments:

Post a Comment