دائرہ زدہ لوگو
دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں
سر نگوں مسافت میں راستے تو ہوتے ہیں
خستگی بھی ہوتی ہے
طے ہوئے تماشے کا اک خیالِ پیہم بھی
پر ہٹاؤ جوں کا توں اور کٹاؤ جوں کا توں
ورزشی مشینوں پر دوڑتے ہوئے لوگو
تھک کے بیٹھ جاؤ گے
اور پھر نیا کوئی بے جہت مسافر
اس دائرے میں گھومے گا
کاش کوئے منزل کو دوڑ کافی ہو سکتی
کاش سوئے دانائی کوئی آئینہ خانہ
خستگی سمجھ سکتا
دائرہ زدہ لوگو
دائروں کی قسمت میں منزلیں نہیں ہوتیں
عاطف توقیر
No comments:
Post a Comment