Wednesday, 7 July 2021

وہ گلستاں کہ جہاں اپنا آب و دانہ ہے

 وہ گُلستاں کہ جہاں اپنا آب و دانہ ہے

اسے بھی برق و شرر نے عزیز جانا ہے

جہاں بھی شام ہوئی، بس وہیں ٹھکانا ہے

نہ کوئی شاخ ہے اپنی، نہ آشیانہ ہے

پرائے درد کو اپنا ہی درد جانا ہے

ہم اہلِ درد کا رشتہ بہت پُرانا ہے

جہاں نہ ٹھیس لگے دل کے آبگینوں کو

وہی قبیلہ ہے اپنا، وہی گھرانا ہے

گئے ہو جب سے ہر اک سمت ہُو کا عالم ہے

بہت اُداس ہمارا غریب خانہ ہے

غریبِ شہر ہیں لیکن کُلاہ کج ہے حسؔن

یہ بانکپن تو ہمارا بہت پُرانا ہے


حسن چشتی

No comments:

Post a Comment