Wednesday, 7 July 2021

بات بگڑی ہوئی بنی سی رہی

 بات بگڑی ہوئی بنی سی رہی

جاں نہیں نکلی جانکنی سی رہی

بات کھنچتی چلی گئی دل سے

عمر بھر پھر تنا تنی سی رہی

حُسنِ شب صبح دم ڈھلا، لیکن

پیشتر اس کے چاندنی سی رہی

بحث ہم کو نہ تھی مناظر سے

یوں تھا بینائی سے ٹھنی سی رہی

اس کا ردِ عمل تھا خنجر سا

عشق کہنے کو تھا انی سی رہی

سمت دنیا کے ہم گئے ہی نہیں

اس علاقے سے دشمنی سی رہی

کر کے اک قافلہ غبار غبار

راہ کچھ دیر ان منی سی رہی


بکل دیو

No comments:

Post a Comment