Wednesday, 7 July 2021

فروزاں شمع الفت ہے یہ پروانے کہاں جاتے

 فروزاں شمعِ اُلفت ہے یہ پروانے کہاں جاتے

تِری محفل سے اٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے

سہارہ بس تمہارا ہے، ہمارا کون ہے اپنا؟

تمہارا چھوڑ کر در ٹھوکریں کھانے کہاں جاتے

پِلا کر مست کر ڈالا ہے ساقی نے نگاہوں سے

بھلا ساغر کو پینے اب یہ مے خانے کہاں جاتے

سجا رکھی ہے مُورت دل کے اندر بس تِری جاناں

بُتوں کو پُوجنے جاناں صنم خانے کہاں جاتے

تِرے در کی گدائی نے جہاں میں کر دیا مشہور

گدا تیرے نہ ہم ہوتے تو پہچانے کہاں جاتے

اگر ہم روبرو ہو کر نہ پیتے ان سے جو فیصل

نگاہِ یار سے چھلکے یہ پیمانے کہاں جاتے


فیصل گنوری 

No comments:

Post a Comment