شوقِ سرور شامِ غم اپنے سوا کسی کا ہے
جام و سبو کسی کے ہیں، کیف و نشہ کسی کا ہے
خود تک پہنچ کے دیکھیے، کیا کیا پڑے گا بیچ میں
گویا قبا ہے آپ کی، بندِ قبا کسی ہے
خیمۂ سامری کو ہے اژدہائے رامس کا خوف
یعنی عصا کسی کی ہے، یعنی خدا کسی کا ہے
کس کس خدا کا ذکر ہو، کس کس خدا سے کام ہو
دل میں دعا کسی سے ہے حرفِ دعا کسی کا ہے
کاسۂ جسم و جاں خلا، لمحۂ دوستاں خلا
وعدۂ شب کسی سے ہے، وعدہ وفا کسی کا ہے
عاطف توقیر
No comments:
Post a Comment