Wednesday, 9 June 2021

کتنی سادہ سی اپنی کہانی ہے

 کتنی سادہ سی اپنی کہانی ہے

بس بہتے پانی کی روانی ہے

داستان ذرا طول ہے، طولانی ہے

کچھ کہہ دی ہے، کچھ سنانی ہے

وہ نہیں مِلا تھا تو اور بات تھی

مِل گیا ہے تو بھی خلش انجانی ہے

وہ آشنا گزرا کتنی بے آشنائی سے

گُپ رستوں کو آج تک حیرانی ہے

بہت شور تھا پہلو میں دل💓 کا

اب خاموش ہے اور کتنی ویرانی ہے

زندگی کی شاید بس اتنی کہانی ہے

ایک چائے کا کپ، اک پھول کی جوانی ہے


زارا مظہر

No comments:

Post a Comment