کتنی سادہ سی اپنی کہانی ہے
بس بہتے پانی کی روانی ہے
داستان ذرا طول ہے، طولانی ہے
کچھ کہہ دی ہے، کچھ سنانی ہے
وہ نہیں مِلا تھا تو اور بات تھی
مِل گیا ہے تو بھی خلش انجانی ہے
وہ آشنا گزرا کتنی بے آشنائی سے
گُپ رستوں کو آج تک حیرانی ہے
بہت شور تھا پہلو میں دل💓 کا
اب خاموش ہے اور کتنی ویرانی ہے
زندگی کی شاید بس اتنی کہانی ہے
ایک چائے کا کپ، اک پھول کی جوانی ہے
زارا مظہر
No comments:
Post a Comment