Monday, 11 January 2021

وجود عشق کا کوئی سرا ملا نہیں ملا

 وجودِ عشق کا کوئی سِرا ملا نہیں ملا 

خودی ملی نہیں ملی خدا ملا، نہیں ملا 

تمام شہر میں ملے گلے ہزار رات سے 

مگر کہیں کسی جگہ دِیا ملا، نہیں ملا 

تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے نہیں ملے 

ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا، نہیں ملا 

یہ عہدِ رد کا عہد تھا سو رسم مسترد ہوئی 

مسیحِ وقت دار پر کھڑا ملا، نہیں ملا 

زمینِ دشت یاد بھی ہوائے سنگ دل کی ہے 

کوئی نشان دیر تک پڑا ملا، نہیں ملا 


عاطف توقیر

No comments:

Post a Comment