Thursday, 8 September 2022

کہیں تو ہو گا ہمارا بھی ہونے والا کوئی

 کہیں تو ہو گا ہمارا بھی ہونے والا کوئی

سو آج ڈھونڈنے نکلیں گے رونے والا کوئی

کچھ اس طرح سے مِرے دل کے ساتھ کھیلا گیا

میں خود کو لگنے لگا تھا کھلونے والا کوئی

سمیٹ رکھتا ہوں تب تک میں بارِ تنہائی

تم اتنی دیر میں لے آؤ ڈھونے والا کوئی

بس اک نظر کو ترستا رہا ہے دامنِ دل

وگرنہ روز ہی ملتا تھا دھونے والا کوئی

ہماری صدیوں کی بیداری رائیگاں نہ سمجھ

ہمارے حصے کا سوتا ہے سونے والا کوئی


اسامہ عندلیب

No comments:

Post a Comment