کہیں تو ہو گا ہمارا بھی ہونے والا کوئی
سو آج ڈھونڈنے نکلیں گے رونے والا کوئی
کچھ اس طرح سے مِرے دل کے ساتھ کھیلا گیا
میں خود کو لگنے لگا تھا کھلونے والا کوئی
سمیٹ رکھتا ہوں تب تک میں بارِ تنہائی
تم اتنی دیر میں لے آؤ ڈھونے والا کوئی
بس اک نظر کو ترستا رہا ہے دامنِ دل
وگرنہ روز ہی ملتا تھا دھونے والا کوئی
ہماری صدیوں کی بیداری رائیگاں نہ سمجھ
ہمارے حصے کا سوتا ہے سونے والا کوئی
اسامہ عندلیب
No comments:
Post a Comment