رات کے پچھلے پہر
چمکتے چاند کو دیکھتے
اور تارے گن گن کر رات بسر کرنے
نصف دن میں تپتے سورج کی تپش
میں جلنے والا مزدور
ٹرین میں بیٹھا کر کسی اپنے کو
واپس لوٹ کے گھر آنے والے
جواں بیٹے کو دفنا کر پلٹنے والا اک
بے سہارا باپ
روٹی کی قلت سے خودکشی کرنے والے
کچی آبادیوں کے ارگرد
بہتے دریاؤں کے خطرے میں
پل پل سانس لینے والے لوگ
اور بارش کے خوف سے
کچے مکانوں میں رہنے والے
اور خزاں کے ڈر سے سانس لینے والے چرند پرند
سیلاب میں بہتے گھر
اور کئی لاشیں
اور کئی مائیں اپنا دھن لٹنے
اور بیٹوں کی لاشوں پہ بین کر رہی
سڑک کے کنارے بیٹھا فقیر جو اپنی کسی
مجبوری سے مجبور ہو کر
ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہے
اور اس کی نم آنکھیں
میں یہ سب دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود
کہیں تنہا بیٹھا
تمہیں سوچتے ہوئے
فقط تمہارے بچھڑ جانے کا غم منا رہا ہوں
ادریس اکبر
No comments:
Post a Comment