Thursday, 8 September 2022

تمہارے بچھڑ جانے کا غم منا رہا ہوں

 رات کے پچھلے پہر

چمکتے چاند کو دیکھتے

اور تارے گن گن کر رات بسر کرنے 

نصف دن میں تپتے سورج کی تپش

میں جلنے والا مزدور

ٹرین میں بیٹھا کر کسی اپنے کو

واپس لوٹ کے گھر آنے والے

جواں بیٹے کو دفنا کر پلٹنے والا اک

بے سہارا باپ

روٹی کی قلت سے خودکشی کرنے والے

کچی آبادیوں کے ارگرد

بہتے دریاؤں کے خطرے میں 

پل پل سانس لینے والے لوگ

اور بارش کے خوف سے

کچے مکانوں میں رہنے والے 

اور خزاں کے ڈر سے سانس لینے والے چرند پرند

سیلاب میں بہتے گھر 

اور کئی لاشیں 

اور کئی مائیں اپنا دھن لٹنے

اور بیٹوں کی لاشوں پہ بین کر رہی

سڑک کے کنارے بیٹھا فقیر جو اپنی کسی 

مجبوری سے مجبور ہو کر 

ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہے 

اور اس کی نم آنکھیں

میں یہ سب دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود

کہیں تنہا بیٹھا 

تمہیں سوچتے ہوئے

فقط تمہارے بچھڑ جانے کا غم منا رہا ہوں


ادریس اکبر

No comments:

Post a Comment