Thursday, 22 April 2021

ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی

 ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھی

میں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی

تُو نے جھُلسا دیا جلتا ہوا سورج دے کر

ہم نے جینے کے لیے ایک سحر مانگی تھی

ہمسفر کس کو کہیں، شمس و قمر نے ہم سے

منہ پہ مَلنے کے لیے گردِ سفر مانگی تھی

کون آزر ہے جسے اپنا زیاں ہے مقصود

کس نے پتھر کے لیے روحِ بشر مانگی تھی

ایک لمحہ کوئی جی لے تو بڑی بات ہے یہ

اس لیے ہم نے اثر عمرِ شرر مانگی تھی


اظہار اثر

No comments:

Post a Comment