Thursday, 22 April 2021

بیٹوں کے سر سے باپ کا سایہ جو ہٹ گیا

 بیٹوں کے سر سے باپ کا سایہ جو ہٹ گیا

اتنا بڑا مکان تھا حصوں میں بٹ گیا

کہتے ہیں نقشِ پا کہ رُکا تھا وہ دیر تک

دستک دئیے بغیر جو در سے پلٹ گیا

میں خود ڈرا ہوا تھا پہ ہمت سی آ گئی

جب بچہ ڈر کے میرے گلے سے لپٹ گیا

ثابت ہوا کہ میری زمیں مجھ کو راس تھی

آ کر بلندیوں میں مِرا وزن گھٹ گیا

سب اہلِ خانہ کے ہیں تقاضے جدا جدا

پرویز میرا پیار تو ٹکڑوں میں بٹ گیا


پرویز اختر

No comments:

Post a Comment