خود کو دل سے اتارنے کے بعد
کیسا لگتا ہے ہارنے کے بعد
ریزہ ریزہ بکھیرتا ہے مجھے
ریزہ ریزہ سنوارنے کے بعد
آج دل کھول کر ہنسا ہوں میں
سارے جذبوں کو مارنے کے بعد
رکھ گیا ہے بلندیاں مجھ میں
پستیوں میں اتارنے کے بعد
خواہشوں کو دبا رہا ہوں میں
خواہشوں کو ابھارنے کے بعد
میری سانسیں اُکھڑ گئیں جاوید
زندگی کو پکارنے کے بعد
جاوید اکرم
No comments:
Post a Comment