پتھروں کے شہر میں شیشہ گری
چل نہیں سکتی تِری کاریگری
آگ لینے کو گئے موسیٰ مگر
طُورِ سینا پر ملی پیغمبری
رام تُو نے کر لیا آرام سے
چل گئی دل پر تِری جادو گری
بچ کے رہنا دشمنوں کی چال سے
ہے تِرے چاروں طرف فتنہ گری
مرض کی تشخیص تو ہوتی نہیں
کیسے کر پاؤ گے تم چارہ گری
جان و دل ہم ہار بیٹھے آپ پر
جب سے دیکھی آپ کی دیدہ وری
شاعری تو ہے مِرے دل کی صدا
کب ہے یہ الفاظ کی جادو گری
عاکف غنی
No comments:
Post a Comment