وصل بھی اذیت ہے ہجر بھی نحوست ہے
مجھ پہ اس محبت کی آخری نحوست ہے
خودکشی پہ اُکسا کر خود ہی لوگ کہتے ہیں
خودکشی نہ کر لینا، خودکشی نحوست ہے
پہلے ذہن بنتا ہے چیخ چیخ کر روؤں
پھر خیال آتا ہے یہ بڑی نحوست ہے
دل میں ہو کا عالم ہے کوئی رہ نہیں سکتا
جانے اس خرابے میں کون سی نحوست ہے
جنتری سے دیکھی ہے اب کے فال پھر میں نے
پھر وہی ستارے ہیں پھر وہی نحوست ہے
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment