Wednesday, 12 May 2021

رعایا ظلم پہ جب سر اٹھانے لگتی ہے

 رعایا ظلم پہ جب سر اٹھانے لگتی ہے

تو اقتدار کی لو تھرتھرانے لگتی ہے

ہمیشہ ہوتا ہوں کوشش میں بھول جانے کی

وہ یاد اور بھی شدت سے آنے لگتی ہے

حقیر کرتی ہے یوں بھی کبھی کبھی دنیا

مِرے ضمیر کی قیمت لگانے لگتی ہے

یہ روشنائی جو پھیلی ہے تیرے اشکوں سے

یہ سسکیوں کی صدائیں سنانے لگتی ہے

غروب ہوتا ہے سورج تو میرے سینے سے

یہ کیسی رونے کی آواز آنے لگتی ہے

یہ مصلحت ہے بجھانے کا جب ارادہ ہو

ہوا دِیے کی کمر تھپتھپانے لگتی ہے

مِرے دریچے، مِرے بام مسکراتے ہیں

وہ جب گلی سے مِری آنے جانے لگتی ہے


طارق قمر

No comments:

Post a Comment