کاش
کاش سمجھوتوں کو
کانچ کی چوڑیوں کی طرح
پیس کر کھایا جا سکتا
تنہائی کے زہر کو
شیو کے نیل کنٹھ کی طرح
گلے میں رکھ کر جیا جا سکتا
کاش
پیاس کو سنووائٹ کے
نصف سیب کی طرح
حلق میں دبا کر موت کی نیند کا
ابدی وقفہ لیا جا سکتا
مگر یہ سمجھوتے تو
میرے خون کو
زہر کی طرح
نیلا کرتے جا رہے ہیں
میری سانسوں کو اپنے بار سے مستقل
ادھ مؤا کرتے جا رہے ہیں
ثروت زہرا
No comments:
Post a Comment