Monday, 14 December 2020

بہت چاہا وہ لوٹ آئے مگر لوٹا نہیں جاناں

 ہمارے ہاتھ سے پھسلا


رُتوں کی بے ثباتی کا سنا کرتے تھے قرنوں سے

مسافر ہیں رُتیں ساری، کہیں ٹھہرا نہیں کرتیں

اگر یہ رُوٹھ جائیں تو کبھی لوٹا نہیں کرتیں

مگر اندر کے موسم کا عجب انداز ہوتا ہے

کبھی بوندوں کی پائل جب کوئی سُر چھیڑ جاتی ہے

کسی رتنار سی رُت میں سمے کی دھوپ کِھل کر 

جب گئے وقتوں کے سب بھولے ہوئے قصے سناتی ہے

کسی سہمے ہوئے دل میں روپہلی چاندنی آ کر

رسیلے گیت گاتی ہے

تو پھر لمحوں کے آنچل میں بندھا اک دلربا موسم

اچانک گھیر لیتا ہے

مگر ایسا نہیں ہوتا

سنو ایسا نہیں ہوتا

یہ سب قصہ کہانی ہے

جو لوگوں نے بنایا ہے

بہت عرصہ ہوا پھسلا ہمارے ہاتھ سے ہمدم

وہ اک شاداب سا موسم

تمہاری دِید کا موسم، سہانے خواب کا موسم

تمہارے قُرب کی شامیں

مِلن کے لمحۂ نایاب کا موسم

بہت عرصہ ہوا پھِسلا ہمارے ہاتھ سے ہمدم

وہی کلیوں کا، پھولوں کا

انہی ساون کے جھولوں کا

اسی عہدِ طرب کا وہ حسیں مہتاب سا موسم

بہت چاہا وہ لوٹ آئے

مگر لوٹا نہیں جاناں

یقیں مانو

مسافر ہیں رُتیں ساری، کہیں ٹھہرا نہیں کرتیں

اگر یہ روٹھ جائیں تو کبھی لوٹا نہیں کرتیں


شاہین کاظمی

No comments:

Post a Comment