Monday, 14 December 2020

پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کو ڈوب مروں میں

 پاگل سمجھا ہے کیا مجھ کو

ڈوب مروں میں

اور سب اس منظر سے اپنا دل بہلائیں

بچوں کو کندھوں پر لے کر

اچک اچک کر مجھ کو دیکھیں

ہنسی اڑائیں


لاکھ مری اپنی وجہیں ہوں جاں دینے کی

لیکن پھر بھی

دل میں میرے بھی ہے وہ بے معنی خواہش

جاتے جاتے سب کی آنکھیں نَم کرنے کی

میری سمجھ سے

اتنا حق تو ہے

جاں دینے والے کا دنیا والوں پر

شرکت کر لیں

وہ اس پَل میں تھوڑا سا سنجیدہ ہو کر

جاں دینے آیا ہوں، لیکن

یہ بتلا دوں

جان لڑا دوں گا میں جان بچانے میں گر

ایک تماشا دیکھنے والے کو بھی ہنستا دیکھا خود پر

لوٹ آؤں گا

کہہ دیتا ہوں

ایسا کچھ بھی اگر ہوا تو

بیچ بھنور سے لوٹ آؤں گا


شارق کیفی

No comments:

Post a Comment