Friday, 5 March 2021

جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا

 جب آہ بھی چپ ہو تو یہ صحرائی کرے کیا 

سر پھوڑے نہ خود سے تو یہ تنہائی کرے کیا 

گزری جو ادھر سے تو گھٹن سے یہ مرے گی 

حبسِ دلِ وحشی میں یہ پُروائی کرے کیا 

کہتی ہے جو کہنے دو یہ دنیا مجھے کیا ہے 

زندانئ احساس میں رسوائی کرے کیا

 ہر حسن و ادا دھنس گئے آئینے کے اندر

جب راکھ ہوں آنکھیں تو یہ زیبائی کرے کیا

وہ زخم کہ ہر لمس نیا زخم لگے ہے

بیمارئ ادراک مسیحائی کرے کیا

پل بھر کو یہ سودائے جنوں کم نہیں ہوتا

شہروں کے تکلف میں یہ سودائی کرے کیا


ثروت زہرا

No comments:

Post a Comment