گرفتہ دل ہوں م<رے دل میں پیار رہنے دے
خزاں کے دور میں لُطفِ بہار رہنے دے
خدارا مجھ کو نہ دے طعنہ بے وفائی کا
وفا کروں نہ کروں, اختیار رہنے دے
کبھی رفیق, کبھی نا شناس لگتا ہے
اک انتظار، پسِ انتظار رہنے دے
تمہارے لہجے میں کیوں آج بیوفائی ہے
وفا کا اپنی زرا اعتبار رہنے دے
نظر میں میری تصور تِرے جمال کا ہے
مِرے خیال پہ اپنا نکھار رہنے دے
یہ زخم کس نے دئیے ہیں بتاؤں کیا میں وسیم
ہے زندگی کی چبھن، بے قرار رہنے دے
وسیم بدایونی
No comments:
Post a Comment