Monday, 14 December 2020

صداؤں کا سمندر میرے جسم میں

 صداؤں کا سمندر

میرے جسم میں

ایک صداؤں کا سمندر ٹھہر گیا ہے

یہ میری آنکھ

کسی خواب کے پیہم چٹخنے کی

گونج دے رہی ہے

میں اپنی کوکھ میں سے

خاموشیوں کے ہمکنے کی

آواز سن رہی ہوں

اور پھر

میری انگلی کی پوروں سے

میرے حرف بہے جا رہے ہیں

میرے خون کی روانیاں

جسم کی نالیوں میں سے

کسی بپھرتی ہوئی موج کی طرح

اپنے ساحل کو پکارتی ہیں

اور میری سانس

میرے اعضا کے بیچ سے یوں جا رہی ہے

جیسے

ویران جھاڑیوں کے درمیان سے

گزرتی ہوئی وہ ہوا ہو

جو سوکھے ہوئے زرد پتوں کے راز بانٹتی ہے

اور میں اپنے جسم کی بوسیدہ دیوار سے کان لگائے

ہر ایک صدا کو بغور سن رہی ہوں

اور شاید انہی میں بہہ رہی ہے


ثروت زہرا

No comments:

Post a Comment