عملاً تو مانتے نہیں قائد کی بات کو
کیوں رٹ رہے ہو بیٹھ کے چودہ نکات کو
جیسے ہمارے جسم پہ لکھی ہو بد دعا
پڑھتا نہیں ہے کوئی بھی ہم کاغذات کو
وہ نصف حصہ دار ہے میری دعاؤں کا
جو بد دعا بھی دیتا ہے شبِ برات کو
میں فلم میں بھی کوئی ستم دیکھتا نہیں
میں دیکھتا ہوں کاٹ کے سب حادثات کو
کچھ لمس بانٹ لمس کے ترسے ہوؤں کے بیچ
کچھ تو نکال حسن کی واجب زکات کو
احمد آشنا
No comments:
Post a Comment