Monday, 14 December 2020

کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا

 کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا

ہزار اس سے رہا رابطہ بہت گہرا

بس اس قدر کہ یہ ہجرت کی عمر کٹ جائے

نہ مجھ غریب سے رکھ سلسلہ بہت گہرا

مجھے طلسم سمجھتا تھا وہ سرابوں کا

بڑھا جو آگے سمندر ملا بہت گہرا

تو اس کی زد میں جو آیا تو ڈوب جائے گا

بہ قدر آب ہے ہر آئینہ بہت گہرا

ملیں گے راہ میں تجھ کو چراغ جلتے ہوئے

کہیں کہیں ہے مرا نقش پا بہت گہرا

فضا ہمیں تو ہے کافی یہی خمار وجود

ہے بے شراب بھی حاصل نشہ بہت گہرا


فضا ابن فیضی

No comments:

Post a Comment