کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا
ہزار اس سے رہا رابطہ بہت گہرا
بس اس قدر کہ یہ ہجرت کی عمر کٹ جائے
نہ مجھ غریب سے رکھ سلسلہ بہت گہرا
مجھے طلسم سمجھتا تھا وہ سرابوں کا
بڑھا جو آگے سمندر ملا بہت گہرا
تو اس کی زد میں جو آیا تو ڈوب جائے گا
بہ قدر آب ہے ہر آئینہ بہت گہرا
ملیں گے راہ میں تجھ کو چراغ جلتے ہوئے
کہیں کہیں ہے مرا نقش پا بہت گہرا
فضا ہمیں تو ہے کافی یہی خمار وجود
ہے بے شراب بھی حاصل نشہ بہت گہرا
فضا ابن فیضی
No comments:
Post a Comment