جنہیں کرونا کا نام تہذیب نے دیا تھا
نظامِ زر کی فنائے کافر ادا کے دن ہیں
یہ شہرِ اندیشہ کیسے آشوب میں پڑا ہے
یہ کیا سراسیمگی ہے کس التجا کے دن ہیں
اسے پکارو، اسے تلاشو، اسے تراشو
صدا کے دن ہیں بکا کے دن ہیں دعا کے دن ہیں
وہی تھکن ہے وہی اداسی وہی نراسی
وہ دن کہاں ہیں جو خلقتِ بے نوا کے دن ہیں
سو آج بھی ہیں ہم اپنی اوقات کے مطابق
جنوں کی راتیں جفا کی صبحیں وفا کے دن ہیں
ہم اس مسیحا کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مریں گے
ہماری آبادیوں میں ایسی وبا کے دن ہیں
خمار میرزادہ
No comments:
Post a Comment