Wednesday, 8 September 2021

معیشت کی رسی سے یہ راتب شوق کھنچا گیا ہے

 معیشت کی رسی سے

یہ راتبِ شوق کھنچا گیا ہے

فصیلوں کے گارے سے

خواہش کی اینٹوں سے

سب منزلوں اور

رستوں کو پاٹا گیا ہے

نگاہِ سخن تیرے آگے

حقیقت کی اندھی سحر

چن چکی ہے

ضمیر طلب

تیری خواہش

ضرورت کی اوندھی بصیرت سے

باندھی

گئی ہے

میں اس شہر کی بستیوں اور

سڑکوں پہ دل کی معیشت کی

رسی سے کھینچی گئی ہوں


ثروت زہرا

No comments:

Post a Comment