Wednesday, 8 September 2021

نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے

 نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے

کئی دنوں سے یہی انتظام چل رہا ہے

اس اک لکیر پہ دیکھو مدام چل رہا ہے

خدا کا شکر کہ سارا نظام چل رہا ہے

اثر دعاؤں میں آئے تو کس طرح آئے

یہاں حلال کی صورت حرام چل رہا ہے

نہیں ہے تیغ کوئی بھی نیام کے اندر

جدھر بھی جاؤ یہی قتل عام چل رہا ہے

ابھی تلک ہے وہی سحر سبز باغوں کا

فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے

تمام شہر ہے خالی، اجڑ گئے چوپال

امیرِ شہر کی محفل میں جام چل رہا ہے

تمہارے حسن کے چرچے، وفا کی باتیں بھی

تمہارے نام کا سکہ مدام چل رہا ہے

یہ کائنات کی گردش کہیں تھمی تو نہیں

کوئی ستارہ کہیں صبح و شام چل رہا ہے

کوئی نہیں جسے خالی پھرایا جاتا ہو

فقیر خوش ہے، سلام و طعام چل رہا ہے

وگرنہ کوئی بھی خوبی کہاں ہے مجھ میں نبیل

یہ میرا ماں کی دعاؤں سے کام چل رہا ہے


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment