نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے
کئی دنوں سے یہی انتظام چل رہا ہے
اس اک لکیر پہ دیکھو مدام چل رہا ہے
خدا کا شکر کہ سارا نظام چل رہا ہے
اثر دعاؤں میں آئے تو کس طرح آئے
یہاں حلال کی صورت حرام چل رہا ہے
نہیں ہے تیغ کوئی بھی نیام کے اندر
جدھر بھی جاؤ یہی قتل عام چل رہا ہے
ابھی تلک ہے وہی سحر سبز باغوں کا
فریبِ عام برائے عوام چل رہا ہے
تمام شہر ہے خالی، اجڑ گئے چوپال
امیرِ شہر کی محفل میں جام چل رہا ہے
تمہارے حسن کے چرچے، وفا کی باتیں بھی
تمہارے نام کا سکہ مدام چل رہا ہے
یہ کائنات کی گردش کہیں تھمی تو نہیں
کوئی ستارہ کہیں صبح و شام چل رہا ہے
کوئی نہیں جسے خالی پھرایا جاتا ہو
فقیر خوش ہے، سلام و طعام چل رہا ہے
وگرنہ کوئی بھی خوبی کہاں ہے مجھ میں نبیل
یہ میرا ماں کی دعاؤں سے کام چل رہا ہے
نبیل احمد
No comments:
Post a Comment