Friday, 16 September 2022

یہ عجیب راستے ہیں کوئی ہمسفر کہاں ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہ عجیب راستے ہیں کوئی ہمسفر کہاں ہے

میں تو خود کو چھوڑ آئی یہ نبیؐ کا آستاں ہے

یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے یہاں وقت رک گیا ہے

اسی در پہ روشنی ہے اسی چھاؤں میں اماں ہے

یہاں عجز کے مراتب، یہاں آرزو بھی منصب

بڑا خوش نصیب ہے جو پسِ گردِ کارواں ہے

یہ مقام ہے ادب کا نہ اٹھا سکی ہوں پلکیں

جو چھلک گیا ہے آنسو وہ متاعِ عرضِ جاں ہے

وہ حریمِ پاک ہے یہ جہاں رفعتیں جھکی ہیں

یہ وقارِ ہر دو عالم،۔ یہ جمالِ ہر زماں ہے

یہ تجلیوں کا عالم مجھے کیا خبر کہاں ہوں

جو ادا نہ ہو زباں سے وہی حرف ترجماں ہے


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment