Thursday, 4 November 2021

یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور

 یہ تو بجا کہ ہم رہیں چشم کرم سے دور دور

خود بھی نہ رہ سکے مگر آپ جو ہم سے دور دور

دیر و حرم کی نفرتیں لوٹ چکیں نشاط زیست

راہروانِ راہِ نو دَیر و حرم سے دور دور

اہلِ جہاں سے کیا ہمیں صرف ملال اس کا ہے

آپ بھی ہم سے بد گماں آپ بھی ہم سے دور دور

میرا مذاقِ بندگی توڑ چکا ہے روایتیں

آج جبیں ہے آپ کے نقشِ قدم سے دور دور

ایک اداس تیرگی قسمتِ بام دور ہوئی

جب سے تمہاری یاد ہے شامِ الم سے دور دور

مے کدۂ جہاں میں ہے ایک ہجوم مے کشاں

جامِ سفال کے قریب ساغرِ جم سے دور دور

دل میں خیالِ منزل دار و رسن لیے ہوئے

آج کوئی گزر گیا کوئے صنم سے دور دور

منظر سادہ دل جنہیں دوست سمجھ رہے تھے تم

آج وہی وفا سرشت ہو گئے ہم سے دور دور


منظر ایوبی

No comments:

Post a Comment