جو اس گلی کی فضا میں خمار رہتا ہے
وجہ بتاؤں؟ وہاں میرا یار رہتا ہے
نہ مجھ کو تیرنا آئے نہ پاس کشتی ہے
میں کیا کروں کہ وہ دریا کے پار رہتا ہے
برہنہ پا ہی جو چلنا ہو عشق رستے پر
تو آبلوں کا کہاں پھر شمار رہتا ہے
عجب سی بے کلی رہتی ہے اک طبیعت میں
عجب دماغ میں اک انتشار رہتا ہے
اگر ضمیر ہو زندہ تو اک نشانی ہے
ہر اک گناہ کا سینے پہ بار رہتا ہے
زمانہ چھوڑ کے جاتا ہے جب غریبی میں
یہ پیار ماں کا ہے جو برقرار رہتا ہے
جو پل گزارے ہوں قربت میں اپنے یاروں کی
ہر ایک لمحہ اسد یادگار رہتا ہے
اسدالرحمٰن
No comments:
Post a Comment