کوئی وہم ہے کہ خیال ہے، کوئی چال ہے
یہ جو مجھ میں رقص دهمال ہے کوئی چال ہے
یونہی چپ کھڑے ہو تو لازماً کوئی بات ہے
میرا تم سے ایک سوال ہے، کوئی چال ہے
یہ گھنی سیاہ سی رات کتنی طویل ہے
یہاں روشنی کو زوال ہے کوئی چال ہے
کسی اجنبی سی وبا کا خوف ہے شہر میں
یہاں سانس لینا محال ہے، کوئی چال ہے
کوئی شہر بھر میں نہیں ملا جو خرید لے
میرے پاس ہجر کا مال ہے کوئی چال ہے
بھلا آنسوؤں سے بھی ہارتا ہے یھاں کوئی
تیری چشمِ نم کا کمال ہے، کوئی چال ہے
سلیم نتکانی
No comments:
Post a Comment