کمر جو بابل کی توڑ ڈالیں، بنے ہیں ایسے رواج کیونکر؟
جگر کا ٹکڑا جو دے رہا ہے پھر اس سے مانگیں خراج کیونکر
ہے اتنے نازوں سے جس کو پالا، جوان بیٹی وہ دے رہا ہے
جہیز اس سے طلب ہے کرتا یہ میرا بھوکا سماج کیونکر؟
غریب روٹی اگر چُرا لے تے اس کو دوگنی سزا ہے ملتی
انہیں غریبوں کا مال کھا کر ہے سر پہ حاکم کے تاج کیونکر
مِرے وطن کے بہت سے لوگوں کا ایک یہ بھی تو المیہ ہے
جو کام کل پر ہیں چھوڑ سکتے بھلا کریں گے وہ آج کیونکر
جو اس کے پیارے نبیؐ کی حُرمت پہ حرف آئے تو چُپ رہو تم
تو پھر رکھے گا خدا تمہاری حقیر عزت کی لاج کیونکر
جسے محبت کا روگ پکڑے ہو عشق کا جس بشر پہ سایہ
دوا کا اس پر اثر ہو کیسے، طبیب کر لے علاج کیونکر
کتاب فٹ پاتھ پر پڑی اور جوتے شیشے کے طاقچوں میں
اسد پھر ایسے معاشرے میں نہ ہو جہالت کا راج کیونکر
اسد الرحمٰن
No comments:
Post a Comment