سُونے سُونے اُجڑے اُجڑے سے گھروں میں لے چلو
مجھ کو میرے روز و شب کے منظروں میں لے چلو
کچھ تو اپنے پاس بھی ہو زندگی کے واسطے
کوئی تو سودائے خام اپنے سروں میں لے چلو
نارسائی کا تصور کیوں اُڑانوں میں رہے
منزلوں کی دُوریاں اپنے پروں میں لے چلو
شہر کی رنگینیوں میں ہیں کہاں گنجائشیں
ذات کی ویرانیاں سب مقبروں میں لے چلو
پھر تمہارے معبدوں کو مل گئے معبود کچھ
پھر ہمارے جسم مُردہ پتھروں میں لے چلو
کچھ نہ کچھ بن جائے گا نقد و نظر کے بعد وہ
مسئلہ کچھ بھی نہ ہو دانشوروں میں لے چلو
آج پہلی بار مجھ سے کیوں وہ ہارا ہے حیات
آج مجھ کو شہر کے بازی گروں میں لے چلو
حیات لکھنوی
No comments:
Post a Comment