بولتے کم ہیں مگر بات ہے بھاری اپنی
بے سبب آنکھ میں رہتی ہے خماری اپنی
اتنا سستا تو نہیں تھا یہ تعلق اپنا
چند سکوں کے عوض بیچ دی یاری اپنی
موت کی سمت سفر میں ہوں مسلسل یارو
سانس رہبر ہے تو ہے وقت سواری اپنی
جھوٹے لوگوں سے نبھاتی ہے وفائیں سچی
دل کی سادہ ہے بہت راج کماری اپنی
خالی نظروں سے اسے دیکھتے رہنا ہر پل
آج کل ہوتی ہے یوں وقت گزاری اپنی
آستینوں میں بہت سانپ ہیں پالے میں نے
ان سے کیا ڈرنا اسد؟ کھول پٹاری اپنی
اسدالرحمٰن
No comments:
Post a Comment