Friday, 9 July 2021

سب ترے بادۂ گلفام سے نکلے ہوئے ہیں

 سب تِرے بادۂ گلفام سے نکلے ہوئے ہیں

جتنے نشے ہیں تِرے جام سے نکلے ہوئے ہیں

جس طرف دیکھیں تِرے اِسم کا پھیلا ہے طلسم

نام جتنے ہیں تِرے نام سے نکلے ہوئے ہیں

ہم بھی کرتے ہیں شب و روز اسی گھر کا طواف

ہاں، فقط جامۂ احرام سے نکلے ہوئے ہیں

ڈھونڈنے اُٹھے ہو اب سانجھ سویرے جس کو

ڈھونڈنے ہم بھی اسے شام سے نکلے ہوئے ہیں

تِری دہلیز پہ ہی آ کے کریں گے سجدہ

سب کے سب تیرے در و بام سے نکلے ہوئے ہیں

سارے آزاد و خود بیں ہیں گرفتار تِرے

پر سمجھتے ہیں تِرے دام سے نکلے ہوئے ہیں

اپنی یہ تہمتِ تکفیر بچا کر رکھ لے

ناصحا ہم تِرے اسلام سے نکلے ہوئے ہیں

بھول جاتے ہیں کسی عالمِ حیرت میں ندیم

ورنہ گھر سے تو کسی کام سے نکلے ہوئے ہیں


رشید ندیم

No comments:

Post a Comment