تمہارے جنم دن پر
وقت کا پہیہ الٹی سمت میں گھومنے لگا ہے
میں شدید متجسس شاید کسی منظر کی تلاش میں ہوں
میں دیکھ رہا ہوں انسان کی تخلیق کا منظر
میں دیکھ رہا ہوں؛
فرشتوں کو اک دُوجے کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہوئے
یوں لگتا ہے یہ سب اس تخلیق سے خوش نہیں ہیں
یہیں پر ایک جگہ اچانک تمہاری تخلیق کا لمحہ میرے سامنے سے گزرا ہے
رکو، مجھے اس منظر پہ روک دو ہاں یہیں،(میں چِلاتا ہوں)
میں تمہیں جانتا نہیں ہوں؟ ہاں جانتا ہوں
عدم میں ہماری روحیں ہزاروں سال اکٹھی رہ چکی ہیں
میں اس منظر کا حصہ بننا چاہتا ہوں
جہاں تمہیں خلق کرنے کے لیے کوزہ گر نے
تمہاری مٹی کو چاک پر رکھا ہے
کوزہ گر تیزی سے چاک گھما رہا ہے
وقت کی گردش رُکی ہوئی ہے
فرشتوں کی سرگوشیاں بڑھ رہی ہیں
میں وہاں موجود تمہیں دیکھ کر مسکرا رہا ہوں
وسیم حیدر جعفری
No comments:
Post a Comment