Friday, 9 July 2021

وقت کا پہیہ الٹی سمت میں گھومنے لگا ہے

 تمہارے جنم دن پر


وقت کا پہیہ الٹی سمت میں گھومنے لگا ہے

میں شدید متجسس شاید کسی منظر کی تلاش میں ہوں

میں دیکھ رہا ہوں انسان کی تخلیق کا منظر

میں دیکھ رہا ہوں؛

 فرشتوں کو اک دُوجے کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہوئے

یوں لگتا ہے یہ سب اس تخلیق سے خوش نہیں ہیں

یہیں پر ایک جگہ اچانک تمہاری تخلیق کا لمحہ میرے سامنے سے گزرا ہے

رکو، مجھے اس منظر پہ روک دو ہاں یہیں،(میں چِلاتا ہوں)

میں تمہیں جانتا نہیں ہوں؟ ہاں جانتا ہوں

عدم میں ہماری روحیں ہزاروں سال اکٹھی رہ چکی ہیں

میں اس منظر کا حصہ بننا چاہتا ہوں 

جہاں تمہیں خلق کرنے کے لیے کوزہ گر نے 

تمہاری مٹی کو چاک پر رکھا ہے

کوزہ گر تیزی سے چاک گھما رہا ہے

وقت کی گردش رُکی ہوئی ہے

فرشتوں کی سرگوشیاں بڑھ رہی ہیں

میں وہاں موجود تمہیں دیکھ کر مسکرا رہا ہوں


وسیم حیدر جعفری

No comments:

Post a Comment